اہم خبریںپاکستان

کراچی، 7 نوجوانوں کی رکشہ سوار خاتون کو ہراساں کرنے کی ویڈیو سامنے آ گئی

موٹرسائیکل سوار نوجوان سیٹیاں بجتے رہے،نازیبا جملے بھی کسے،ایک نوجوان نے رکشہ روکنے کی بھی کوشش کی،خاتون نے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر دی 

شارع فیصل پر رکشہ میں سوار لڑکی کو ہراساں کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔تفصیلات کے مطابق اوباش موٹرسائیکل سوار نوجوان خواتین کے لیے پریشانی کا سبب بننے لگے،نوجوانوں میں اخلاقی پستی اپنی آخری حدوں کو چھونے لگی۔مختلف شہروں میں موٹرسائیکل سوار نوجوان لڑکیوں کو ہراساں کرنے لگے، گھر سے باہر نکلنے والی خواتین خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگیں۔

نوجوانوں پر مشتمل ٹولیاں دن رات کراچی کی معروف شاہراہوں پر دھینگا مستی کرتے نظر آتے ہیں۔ایسا ہی ایک افسوسناک واقعہ کراچی کی معروف شاہراہ فیصل پر پیش آیا۔جہاں رکشے میں سوار خاتون اسکول ٹیچر کو ان اوباش نوجوانوں نے مسلسل ہراساں کیا اور رکشہ بھی روکنے کی کوشش کی۔

تاہم رکشے میں سوار خاتون نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نوجوانوں کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر دی۔وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ موٹر سائیکلوں پر سوار نوجوان خاتون مسلسل ہراساں کر رہے ہیں۔نازیبا جملے کستے رہے اور سیٹیاں بھی بجاتے رہے۔

ان میں سے ایک نوجوان نے ڈرائیور کو رکشہ روکنے کا کہا مگر رکشہ ڈرائیور نے ان کی ایک نہ سنی۔ہراسگی کا نشانہ بننے والی خاتون نے ویڈیو میں اعلیٰ حکام سے معاملے پر فوری ایکشن لینے کی اپیل کی ہے۔

خیال رہے اس سے قبل ایک ایسا واقعہ ملتان میں پیش آیا تھا۔نوجوان کی راہ چلتی لڑکی کو ہراساں کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔موٹر سائیکل سوار کی لڑکی کو چھیڑنے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئی تھی۔

تنگ کرنے پر طالبہ نے اوباش نوجوان کو پتھر مار کر جان چھڑانے کی کوشش کی۔ملزم نے لڑکی کو تھپڑ مار کر زمین پر گرا دیا۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا تھا کہ جب لڑکی نے نوجوان کو پتھرا مارا تو بدلے میں اس نے تھپڑ مار دیا جس کی وجہ سے وہ زمین پر گر گئی۔ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد صارفین کی جانب سے سخت تنقید کی گئی تھی۔

Zaid Mehmood

جوانوں کو مری آہ سحر دے پھر ان شاہین بچوں کو بال و پر دے خدایا آرزو میری یہی ہے مرا نور بصیرت عام کر دے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button