اہم خبریںپاکستان

جامشورو سے کراچی آ کر چرس فروخت کرنے والے 6 سی آئی اے اہلکار گرفتار

ملزمان سرکاری موبائل میں پولیس یونیفارم پہن کر 76 کلو گرام چرس فروخت کرنے کراچی آئے مقدمہ درج کرلیا گیا

جامشورو سے کراچی آ کر چرس بیچنے والے سی آئی اے کے چھ اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق رینجرز نے شیریں جناح کالونی میں موجود جامشورو سی آئی اے کے 6 اہلکاروں کو گرفتار کر لیا۔ ملزمان سرکاری موبائل میں پولیس یونیفارم پہن کر 76 کلو گرام چرس فروخت کرنے کراچی آئے تھے۔ ملزمان کے خلاف مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایس ایچ او بوٹ بیسن انسپکٹر نصیر تنولی کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز رینجرز نے شیریں جناح کالونی میں کارروائی کرتے ہوئے جامشورو سی آئی اے کے چھ اہلکاروں کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے 76 کلوگرام چرس برآمد کرلی۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ الزام نمبر 587/21 بجرم دفعہ 6/9 سی نارکوٹکس کے تحت سرکاری مدعیت میں درج کر لیا ہے۔

ایس ایچ او کے مطابق ملزمان ایک پولیس موبائل نمبر ایس پی ایف 689 میں سوار تھے جن میں چار اہلکار باوردی اور دو سادہ لباس میں تھے، جب رینجرز کے اہل کاروں نے روکی گئی موبائل کی تلاشی لی تو اس میں سے بیس پیکٹ میں پیک کی گئی اعلیٰ کوالٹی کی چرس برآمد ہوئی۔ مقدمے میں 6 اہلکاروں یعقوب، غلام عباس، اعجاز علی ملاح، عبدالحمید، راہب حسین اور احمد نواز کو نامزد کیا گیا ، ملزمان سے برآمد ہونے والی چرس کی مقدار 76 کلو گرام ہے۔

پولیس حکام کے مطابق ملزمان جامشورو سی آئی اے کے اہل کار ہیں اور 76 کلو گرام چرس فروخت کرنے کے لیے کراچی کے علاقے شیریں جناح کالونی آئے تھے کہ انہیں حراست میں لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق واقعہ کے بعد جامشورو میں واقع سی آئی اے سینٹر کو سیل کردیا گیا۔ ایس ایچ او بوٹ بیسن نصیر تنولی نے مزید بتایا کہ مذکورہ تمام اہل کار جامشورو سی آئی اے کے انسپکٹر نثار بھٹی کی پولیس پارٹی میں شامل ہیں اور انسپکٹر کے خلاف جامشورو میں بھی انکوائری کی جارہی ہے کہ ان کی پارٹی میں شامل اہلکار کس طرح کراچی میں منشیات فروخت کرنے پہنچ گئے؟ واقعہ کے بعد کراچی اور جامشورو میں بڑے پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔

Zaid Mehmood

جوانوں کو مری آہ سحر دے پھر ان شاہین بچوں کو بال و پر دے خدایا آرزو میری یہی ہے مرا نور بصیرت عام کر دے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button