پاکستان

چینی ٹیم نے داسو بس دھماکے سے متعلق ابتدائی تحقیقات مکمل کر لیں

جامع رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی جائے گی،وزیراعظم عمران خان تحقیقات کے نتائج میں نہ صرف دلچسپی لے رہے ہیں بلکہ تمام پیش رفتوں کی نگرانی بھی کر رہے ہیں

چینی ٹیم نے داسو بس دھماکے سے متعلق ابتدائی تحقیقات مکمل کر لی ہیں۔چینی تحقیقاتی ٹیم داسو واقعے کی تحقیقات کے لیے گذشتہ چند روز سے خیبرپختونخوا کے علاقے بالائی کوہستان میں موجود تھی۔جائے وقوع پر اپنا ابتدائی کام مکمل کرنے کے بعد اتوار کو اسلام آباد واپس پہنچ گئی۔

روزنامہ پنجاب کی رپورٹ کے مطابق سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ فوجی تحقیقاتی ایجنسیاں داسو بس دھماکے کی تحقیقات میں تکنیکی معاونت فراہم کر رہی ہیں لیکن یہ تمام تر تفتیش محکمہ انسداد دہشتگردی کی ذمہ داری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سی ٹی ڈی جلد ہی تحقیقات مکمل کرکے وزیراعظم عمران خان کی ہدایت کے مطابق جامع رپورٹ حکومت کو جمع کروائے گی۔وزیراعظم عمران خان تحقیقات کے نتائج میں نہ صرف دلچسپی لے رہے ہیں بلکہ تمام پیش رفتوں کی نگرانی بھی کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دشمن ادارے جھوٹے دعوے کر کے پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت زیر تعمیر میگا پروجیکٹس کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے اور چینی سی ٹی ڈی کی تحقیقات سے مکمل مطمئن ہیں۔

قبل ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور چینی سفیر نونگ رونگ نے کمبائنڈ ملٹری اسپتال (سی ایم ایچ) راولپنڈی کا دورہ کیا اور داسو واقعے میں زخمی چینی شہریوں کی عیادت کی۔ انٹرسروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق وزیر خارجہ نے زخمی چینی باشندوں کو ہر ممکن طبی سہولتوں کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی اور چینی باشندوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اس موقع پر چینی سفیر نے کہا کہ چین اور پاکستان کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کے لیے تعاون جاری رکھیں گے۔ خیال رہے کہ گذشتہ دنوں داسو ڈیم کے نزدیک ڈیم کی تعمیر میں شامل عملے کی بس کو حادثہ پیش آیا تھا جس میں 9 چینی شہریوں سمیت 12 افراد زخمی ہوئے تھے۔حکام نے خدشہ ظاہر کیا کہ واقعہ دہشت گردی کا شاخسانہ ہوسکتا ہے، اس حوالے سے چینی حکام کے ساتھ مل کر تحقیقات جاری ہیں۔

Zaid Mehmood

جوانوں کو مری آہ سحر دے پھر ان شاہین بچوں کو بال و پر دے خدایا آرزو میری یہی ہے مرا نور بصیرت عام کر دے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button