بین الاقوامی

دوا کی جگہ خاتون نے آنکھ میں گلو ڈال دیا، پھر کیا ہوا؟

برطانیہ میں ایک خاتون نے ٹی وی پر اپنا پسندیدہ ڈراما دیکھتے ہوئے آنکھ میں غلطی سے دوا کی جگہ گلو ڈال دیا، جس سے ان کی آنکھ بند ہو گئی۔

لندن(روزنامہ پنجاب تازہ ترین ویب ڈیسک 21 جون 2021) تفصیلات کے مطابق ایک برطانوی خاتون 35 سالہ کیٹی بیتھ نے اتفاقی طور پر ’ہے فیور‘ کے ڈراپس کی جگہ نیل گلو ڈال دیا، جس سے ان کی ایک آنکھ کی پلکیں آپس میں چپک گئیں۔کیٹی بیتھ ایک پرانا پسندیدہ ڈراما ’اے پلیس ان دی سن‘ دیکھ رہی تھیں، اس دوران ان کی آنکھ میں الرجی سے تکلیف ہونے لگی تو انھوں نے ہاتھ بڑھا کر ہے فیور (الرجی والا زکام) کا ڈراپس اٹھانا چاہا لیکن انھوں نے غلطی سے ناخنوں پر استعمال ہونے والا گلو اٹھا لیا

ڈراما دیکھتے ہوئے انھوں نے آنکھ میں تیزی سے خشک ہونے والے گلو کے دو قطرے ڈال دیے، جس پر ان کی آنکھ میں شدید جلن ہونے لگی، اور تکلیف ذرا سی دیر میں ناقابل برداشت ہو گئی۔کیٹی بیتھ نے واقعے سے متعلق بعد میں بتایا کہ انھوں نے آنکھ میں جلن محسوس ہونے پر ہینڈ بیگ سے ڈارپس نکالنا چاہا لیکن وہ بیگ میں نہیں تھا، سائیڈ میز پر ویسی ہی بوتل پڑی تھی تو میں نے جلدی سے وہی اٹھا لی، اور شیشے کے پاس جا کر آنکھ میں ایک قطرہ ڈالا، جس پر شدید جلن ہوئی، تو میں نے مزید ایک قطرہ ڈال دیا تاکہ مقدار درست ہو، اور جلن جلد دور ہو۔خاتون نے کہا لیکن آنکھیں جب شدید جلنے لگیں تب میں نے بوتل کی طرف دیکھا، اور میرے اوسان خطا ہو گئے، دوڑ کر کچن گئی اور آنکھ دھونا شروع کیا، تاہم دو قطروں نے بھی آنکھ کو پوری طرح بند کر دیا تھا۔



اس کے بعد وہ بھاگ کر پڑوسن کے پاس گئیں اور پھر 15 میل دور کلینک پہنچیں، ستم ظریفی یہ تھی کہ جس وقت وہ کلینک پہنچیں، اسی وقت ایک اور شخص بھی آنکھ میں گلو ڈال کر وہاں پہنچا ہوا تھا۔خاتون ڈاکٹر نے فوری طور پر علاج شروع کیا اور آنکھ سے گلو صاف کر دیا، جس کے بعد رات تک کیٹی کی آنکھ کھلنے کے لائق ہو گئی۔واضح رہے کہ گلو کے سلسلے میں ایک کیس پوری دنیا میں بہت مشہور ہے، فروری 2020 میں امریکی ریاست لوزیانا میں ایک خاتون ٹیسیکا براؤن (جو اب گوریلا گلو گرل کے نام سے مشہور ہے) نے بالوں میں ہیئر اسپرے کی جگہ گوریلا گلو ڈال لیا تھا، جس پر انھیں سرجری کروانی پڑی تھی۔

AdsMedia

صحافت دراصل اس چراغ کی مانند ہے جو اندھیری رات میں مسافر کی راہنمائی کرتا ہے خبر کی سچائی، بے لوث اور بے لاگ تجزیہ اس چراغ کی تیل بتی ہوتا ہے جس سے تشکیل پاتی روشنی قوم کے مزاج کی نہ صرف تعمیر کرتی ہے بلکہ اس کے مزاج کا پتہ بھی دیتی ہے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button