اہم خبریںبین الاقوامی

نومنتخب ایرانی صدر کا جوبائیڈن سے متعلق بڑا اعلان ‏

ایران کے نومنتخب صدر ابراہیمی رئیسی نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکی صدر جوبائیڈن سے ملاقات ‏نہیں کریں گے۔

تہران (روزنامہ پنجاب تازہ ترین ویب ڈیسک 21 جون 2021) نومنتخب ایرانی صدر کی پہلی پریس کانفرنس عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئی، پریس ‏کانفرنس میں کئی عالمی و بین الاقوامی میڈیا نمائندوں نے شرکت کی اور سوالات کیے۔

ابراہیمی رئیسی نے سوالات کے دوٹوک جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایران سعودی عرب سمیت پڑوسی ‏ممالک سے تعلقات مضبوط بنانے کا خواہاں ہے ایران دنیا سے بھی بات چیت چاہتا ہے لیکن میں ‏بذات خود جوبائیڈن سے ملاقات نہیں کروں گا۔

پالیسی بیان دیتے ہوئے نومنتخب صدر نے واضح کیا کہ امریکا کو 2015 کے جوہری معاہدے پر ‏واپس آنا ہو گا اور جو وعدے کیے تھے اسے پورا کرنا ہوگا جب کہ یورپ کو امریکی دباؤ سے متاثر ‏نہیں ہونا چاہیے اور جوہری ڈیل کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی ہوں گی ایرانی قومی بھی ‏آپ سے یہی چاہتی ہے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کو ایران پر عائد کردہ تمام پابندیاں اٹھانا ہوں گی جوہری ‏ڈیل میں واپس آنا ہوگا اور کیے گئے وعدوں پر عمل کرنا ہوگا، امریکا کو پوری دنیا کو جواب دینا ہو ‏گا اپنی ذمہ داریوں کی تعمیل کرنی ہوگی اور تمام ظالمانہ پابندیوں کو اس نے ایرن پر عائد کی ہیں ‏ختم کرنا ہوں گی۔

ساٹھ سالہ ابراہیم رئیسی نے سنہ 1979 کے انقلاب ایرن کے فوراً بعد ہی اہم عہدوں پر کام کیا ہے۔ سنہ 2019 سے ابراہیم رئیسی عدلیہ کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ ابراہیم رئیسی اگست میں ایران کے آٹھویں صدر کی حیثیت سے منصب سنبھالیں گے۔

واضح رہے کہ ایران میں 59 ملین 3 لاکھ 10 ہزار اور 307 افراد ووٹنگ میں حصہ لینے کے اہل ہیں، ایران کے تیرہویں صدارتی انتخابات میں عوام کی سہولت اور بھر پور شرکت کے پیش نظر 72 ہزار پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے۔صدارتی انتخابات سے تین امیدوار دستبردار ہوگئے ہیں جن میں مہر علیزادہ، علی رضا زاکانی اور سعید جلیلی شامل ہیں ۔ تین امیدواروں کے صدارتی انتخابات سے دستبردار ہوجانے کے بعد اب چار امیدوار سید ابراہیم رئيسی ، محسن رضائی ، قاضی زادہ ہاشمی اور عبدالناصر ہمتی میدان میں موجود ہیں جنہوں نے اپنی شکست تسلیم کرلی۔

AdsMedia

صحافت دراصل اس چراغ کی مانند ہے جو اندھیری رات میں مسافر کی راہنمائی کرتا ہے خبر کی سچائی، بے لوث اور بے لاگ تجزیہ اس چراغ کی تیل بتی ہوتا ہے جس سے تشکیل پاتی روشنی قوم کے مزاج کی نہ صرف تعمیر کرتی ہے بلکہ اس کے مزاج کا پتہ بھی دیتی ہے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button