دلچسپ و عجیب

برطانوی سکے جو پاکستان میں رائج رہے۔ وجہ کیا تھی؟

1948 تک یہ سکہ جات پاکستان میں رائج رہے۔ پھر پاکستان نے برطانوی سکوں کے ڈیزائن اور اس سے متوازی مالیت کو مدنظر رکھتے ہوۓ اپنے ذاتی سکہ جات بنوائے۔

آج ہم آپ کو کچھ ایسے نایاب و نادر سکہ جات سے روشناس کروائیں گے جو سکہ برطانوی حکومت کے تھے لیکن انہیں پاکستان میں ایک مجبوری اور وقتی ضرورت کے تحت رائج کرنا پڑا۔1947 کے آغاز میں جب پاکستان ایک نوزائیدہ ریاست کے طور پر ابھرا تو پاکستان کے پاس فوری طور پر اپنے مالیاتی واقتصادی نظام کو منظم کرنے کا کوئی خاطرخواہ انتظام موجود نہیں تھا۔تو ملک کی معاشی و اقتصادی ضرورت کے پیش نظر حکومت پاکستان کو برطانوی نظام کو ہی خودکفیل ہونے تک اپنانا پڑا تھا۔اسی لیے ریاست پاکستان نے برطانیہ سے ایک معاہدے کے تحت ان کے برصغیر میں رائج سکوں کو پاکستان میں چلانا پڑا۔1948 تک یہ سکہ جات پاکستان میں رائج رہے۔ پھر پاکستان نے برطانوی سکوں کے ڈیزائن اور اس سے متوازی مالیت کو مدنظر رکھتے ہوۓ اپنے ذاتی سکہ جات بنواۓ۔

جنہیں برطانوی دور حکومت میں 1941 میں لاہور میں قائم کی گئی ٹیکسال (لاہورمنٹ ) سے ہی بنوایا گیا۔اس سے پہلے برصغیر میں صرف دو ہی ٹکسال تھے جو کلکتہ اور بمبئی میں تھے۔لیکن لاہور منٹ سے بنواۓ گئے سکوں میں دوسرے سکوں سے تفریق پیدا کرنے کے پیش نظر اس پر (L) کا منٹ مارک یعنی علامت ظاہر کی گئی۔پاکستان کے نئے بناۓ گئے سکوں میں کرنسی کا نام اور (ڈیسی مل ویلیو ) اور (کرنسی یونٹ) بھی پہلے رائج شدہ برطانوی سکوں کی طرز پر رکھی گئی اور اس ڈیزائن کی باقاعدہ منظوری بھی قائداعظم محمد علی جناح نے بطور ریاست کے سربراہ کے دی۔کرنسی کے نام اور ویلیو درج ذیل تھیں اور نیچے ان کی تصاویر بھی دی گئی ہیں۔

1 Pice

1/2 Anna

1 Anna

2 Anna

1/4 Rupee

1/2 Rupee

1 Rupee

AdsMedia

صحافت دراصل اس چراغ کی مانند ہے جو اندھیری رات میں مسافر کی راہنمائی کرتا ہے خبر کی سچائی، بے لوث اور بے لاگ تجزیہ اس چراغ کی تیل بتی ہوتا ہے جس سے تشکیل پاتی روشنی قوم کے مزاج کی نہ صرف تعمیر کرتی ہے بلکہ اس کے مزاج کا پتہ بھی دیتی ہے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button