اہم خبریںپاکستان

سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود انتظامیہ بے بس ، تاحال نسلہ ٹاور گرانے کا فیصلہ نہ ہوسکا

اہم شخصیات نے نسلہ ٹاورگرانے سے روکنے اور نمائشی کارروائی کیلئے زور دیا، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی نسلہ ٹاور کے حوالے سے صوبائی حکومت کو بھیجی گئی رپورٹ منظرعام پرآگئی

کراچی (روزنامہ پنجاب تازہ ترین۔ 18 جون2021ء) سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے تاحال نسلہ ٹاور گرانے کا فیصلہ نہ ہوسکا، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی نسلہ ٹاور کے حوالے سے صوبائی حکومت کو بھیجی گئی رپورٹ منظرعام پرآگئی ، اہم شخصیات نے نسلہ ٹاورگرانے سے روکنے اور نمائشی کارروائی کیلئے زور دیا ۔ میڈیا ذرائع کہتے ہیں کہ ایس بی سی اے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 30 جولائی 2013 کو ایس بی سی اے نے اس وقت 15منزلہ بلڈنگ پلانگ کی منظوری دی جب ڈی جی ایس بی سی اے منظورقادرعرف کا کا تھے، مختار کار فیروزآباد نے اضافی رقبہ پلاٹ میں شامل کرنے کی منظوری دی ، نسلہ ٹاورکا 780 گز کا پلاٹ سندھی مسلم سوسائٹی نے 1951 میں الاٹ کیا اور چیف کمشنر کراچی نے1957 میں مذکورہ پلاٹ میں 264 گز اضافے کی منظوری دی ، 1980 میں شارع فیصل کے دونوں طرف 20 فٹ کا رقبہ پلاٹس میں شامل کردیا گیا ، شاہراہ قائدین فلائی اوور تعمیر کے دوران77 فٹ مزید رقبہ پلاٹ میں شامل کیا گیا اور اضافے کے بعد نسلہ ٹاور کا پلاٹ بڑھ کر1121مربع گز ہوگیا۔

(جاری ہے)



خیال رہے کہ چند روز قبل سپریم کورٹ نے نسلہ ٹاور کو گرانے کا حکم دیا تھا ، چیف جسٹس جسٹس گلزار احمد نے حکم دیا کہ فوری طور پر عمارت کو گرایا جائے، کراچی میں ساری چائنا کٹنگ اسی طرح ہورہی ہے،زمین کچھ ہوتی ہے، قبضہ اس سے زیادہ کرلیا جاتا ہے ، لگتا ہے کہ کراچی کے خلاف سازش ہوئی ہے اور شہر تباہ کر دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سندھ کی زمینوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ، دوران سماعت سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے نسلہ ٹاور کیس میں بڑا فیصلہ سنایا اور نسلہ ٹاور کو غیر قانونی قرار دے دیا، سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ عمارت غیرقانونی ہے، گرائی جائے، اس موقع پر عدالت عظمیٰ نے بلڈر اور رہائشیوں جانب سے دائر تمام درخواستوں کو مسترد کیا۔قبل ازیں دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ دو، دو ماہ مانگ رہے تھے مگر برسوں گزر گئے، 2007ء سے ریکارڈ اب تک کمپیوٹرائزڈ کیوں نہیں ہوا؟ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے جواب دیا کہ سوائے ٹھٹھہ ضلع کے تمام ریکارڈ مرتب کرلیا گیا۔ چیف جسٹس نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تین سال سے ٹھٹھہ کا ریکارڈ مرتب نہ ہونا عجیب بات ہے، ہزاروں زمینوں کے تنازعات پیدا ہو رہے ہیں، کسی کی زمین کسی کو الاٹ کر دیتے ہیں آپ لوگ، زمینوں پر قبضے بھی اسی وجہ سے ہو رہے ہیں، نا کلاس (NA-Class) کیا ہوتا ہے، اس صدی میں بھی ناکلاس چل رہا ہے، کراچی میں ناکلاس کے نام پر اربوں روپے بنائے جا رہے ہیں،کراچی کا سروے کب ہوگا؟ بورڈ آف ریونیو سب سے کرپٹ ترین ادارہ ہے، زمینوں پر قبضے ممبر بورڈ آف ریونیو کی وجہ سے ہو رہے ہیں، آدھا کراچی سروے نمبر پر چل رہا ہے ، سندھ میں مختیار کار تو وزیر بنے ہوئے ہیں، سرکاری زمینوں پر قبضے بادشاہوں کی طرح ہو رہے ہیں، یونیورسٹی روڈ پر جائیں اور دیکھ لیں کتنی عمارتیں بنی ہیں، نمائشی اقدام کے لیے دیوار گراتے ہیں پھر اگلے دن تعمیر ہو جاتی ہے۔



Zaid Mehmood

صحافت دراصل اس چراغ کی مانند ہے جو اندھیری رات میں مسافر کی راہنمائی کرتا ہے خبر کی سچائی، بے لوث اور بے لاگ تجزیہ اس چراغ کی تیل بتی ہوتا ہے جس سے تشکیل پاتی روشنی قوم کے مزاج کی نہ صرف تعمیر کرتی ہے بلکہ اس کے مزاج کا پتہ بھی دیتی ہے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button