اہم خبریںپاکستان

دو بہنوں کو پراسرار موت کے بعد رات کے اندھیرے میں خاموشی سے دفنا دیا گیا

لڑکیوں پر موت سے قبل چچا نے تشدد کیا تھا،دونوں نے دلبرداشتہ ہوکر خودکشی کی،واقعے کے بعد چچا غائب ہو گیا۔اہل علاقہ

قصور(روزنامہ پنجاب تازہ ترین۔ 16 جون2021ء) دو بہنوں کو مار کر خاموشی سے رات کے اندھیرے میں دفنا دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق امین ٹاؤن میں دو جواں سالہ بہنیں پر اسرار طو رپر جاں بحق ہو گئیں۔تھانہ صدر پولیس نے ان کی لاشیں رات ایک بچی خاموشی کے ساتھ قریبی گاؤں کے قبرستان میں دفن کر دیں۔ایک بہن گیارہویں جب کہ دوسری بہن دسویں جماعت کی طالبہ تھی۔جاں بحق ہونے والی لڑکیوں کی عمریں 17 اور 14برس تھیں جن کی شناخت سمیرا اور فاطمہ کے نام سے ہوئی۔اس سلسلہ میں ایس ایچ او تھانہ صدر رشید احمد کا کہنا ہے کہ ورثاء کی جانب سے بیان حلفی جمع کرانے پر قانونی کارروائی نہیں کی گئی تاہم اہم محکمہ کے مطابق مرنے سے دس منٹ پہلے بچیوں کو چچا کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا جس پر دنوں بہنوں نے دلبرداشتہ ہو کر خودکشی کر لی،بچیوں کا والد آصف دس سال سے عرب ملک میں مقیم ہے۔

(جاری ہے)



لڑکیوں کی پراسرار موت کے بعد چچا گھر سے غائب ہو گیا جبکہ لڑکیوں کی والدہ بےہوشی کی حالت میں تھیں جس کے باعث موقف نہیں دے سکی۔اہل علاقہ نے بچیوں کی پراسرار ہلاکت پراعلیٰ حکام سے فوری نوٹس کی اپیل کی ہے۔دوسری جانب قصور میں ہی چار افراد نے مزدوری کے بہانے بلا کر 12 سالہ یتیم بچی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنادیا۔پولیس نے بتایا کہ بچی کھیتوں میں مزدوری کرکے ماں و دیگر کا پیٹ پالتی ہے، زیادتی کا شکار بچی کا والد فوت ہوچکا ہے،والدہ بھی ذہنی معذور ہے۔ڈی پی اوعمران کشور نے بتایا کہ ملزمان علی رضا، ذوالفقار اور عثمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے گرفتارکرلیا، ملزم رضا بچی کو مزدوری کے بہانے کھیتوں میں لے گیا جہاں پہلے سے موجود دوستوں کے ساتھ مل کر زیادتی کی۔ملزمان زیادتی کے بعد فرار ہوئے، جیو فینسنگ سمیت جدید طریقے سے گرفتاری عمل میں آئی۔ ملزمان سیاسی طور پر راضی نامہ کرنے کے لئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔



Zaid Mehmood

صحافت دراصل اس چراغ کی مانند ہے جو اندھیری رات میں مسافر کی راہنمائی کرتا ہے خبر کی سچائی، بے لوث اور بے لاگ تجزیہ اس چراغ کی تیل بتی ہوتا ہے جس سے تشکیل پاتی روشنی قوم کے مزاج کی نہ صرف تعمیر کرتی ہے بلکہ اس کے مزاج کا پتہ بھی دیتی ہے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button