اہم خبریںبین الاقوامی

مسجد نبوی میں فجر کی نمازمیں 45 منٹ کی تاخیر کے بعد بڑا فیصلہ ہو گیا

مسجد الحرا م اور مسجد نبوی میں آئندہ سے ہر نماز کے لیے دو امام اور تین موذن مقرر کر دیئے گئے

مدینہ منورہ (روزنامہ پنجاب تازہ ترین اخبار۔10 جون2021ء) مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں اُمتِ مُسلمہ کے لیے مقدس ترین مقامات ہیں۔ ان مقامات کی حُرمت اور آبرو ہر مسلمان کو اپنی جان مال، اولاد اور عزت سے بھی بڑھ کر پیاری ہے۔ حج کے موقع پر یہاں پر لاکھوں افراد کا اجتماع ہوتا ہے اور عام دنوں میں بھی ہزاروں افراد نماز اور زیارت کے لیے موجود ہوتے ہیں۔گزشتہ روز مسجد نبوی میں کی تاریخ میں ایک ناقابل یقین واقعہ پیش آیا جب کل بُدھ کے روز صبح سویرے فجر کی نماز45 منٹ تاخیر سے پڑھائی گئی۔ یہ واقعہ شدید انتظامیہ غفلت کا نتیجہ تھا۔ جس پر حرمین شریفین کی جانب سے بڑے عہدے داروں کو فارغ کر دیاگیا ہے۔ سعودی میڈیا کل کے ناقابل قبول واقعے کے بعد حرمین شریفین میں ہر فرض نماز کے لیے دو امام اور تین موذن مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)



حرمین شریفین انتظامیہ کے سربراہ اور امام کعبہ شیخ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس نے احکامات جاری کیے ہیں کہ آئندہ سے ہر نماز کے لیے دو امام موجود ہوں گے اور تین موذن بھی ڈیوٹی دیں گے۔ تاکہ پہلے موذن کو کوئی ایمرجنسی پیش آنے کی صورت میں دوسرا موذن بروقت اذان دے سکے اور اگر دونوں موجود نہ ہوں تو تیسرا موذن یہ فریضہ ادا کرے گی۔ اسی طرح ہر نماز کے لیے ایک مستقل امام کے ساتھ ایک اور امام کی بھی ڈیوٹی ہو گی تاکہ کسی ہنگامی صورت حال میں پہلے اما م کی جگہ یہ دوسرا امام نماز پڑھا سکے۔ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس نے ائمہ اور موذنین کی کمیٹی کوہر نماز کے لیے ائمہ اور موذنین کا نیا شیڈول ترتیب دینے کی ہدایت دے دی ہے۔ اس شیڈول میں اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ کسی صورت بھی اذان اور اقامت میں تاخیر نہ ہو اور امامت بھی وقت پر ہو سکے۔ واضح رہے کہ بدھ کو مسجد نبوی میں فجر کی نماز 45 منٹ دیر سے شروع کرنے اور اس سلسلے میں لاپروائی برتنے پر متعدد عہدیداروں کو ملازمت سے برخاست کر دیا گیا ہے۔سعودی میڈیا نے بتایا ہے کہ حرمین شریفین کی انتظامیہ کے سربراہ اعلیٰ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس نے ڈیوٹی میں کوتاہی برتنے پر مسجد نبوی انتظامیہ کے دو اعلی عہدیداروں کو سبکدوش کیا ہے۔ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس نے مسجد نبوی میں ائمہ اور موٴذن حضرات کی انتظامیہ کے ڈائریکٹر اور سیکریٹری کو ان کے عہدوں سے سبکدوش کیا ہے۔مقدس مساجد کی انتظامیہ کے سربراہ اعلی کے سیکریٹری کو دونوں عہدوں کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔انہیں ادارے کی تنظیم نو کا کام بھی سپرد کیا گیا ہے۔ڈاکٹر السدیس نے اس موقع پر پالیسی بیان میں کہا کہ ترقیاتی پروگرام 2024 کے مطابق ترقیاتی عمل میں کسی کی کوئی بھی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے ہدایت کی کہ سب مطلوبہ طریقے سے ڈیوٹی دیں۔ کام میں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور لاپروائی کو قریب نہ پھٹکنے دیں۔ یاد رکھیں کہ کوتاہی اور لاپروائی برتنے والوں کا احتساب ہوگا اور ان کے خلاف تمام ضروری کارروائی ہوگی ۔



Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button