اہم خبریںپاکستان

گھوٹکی :ٹرین حادثے میں ہلاک ہونے والے مسافروں کی تعداد42سے تجاوزکرگئی

حادثے کا شکار ہونے والی ملت ایکسپریس اور سرسید ایکسپریس میں موجود ڈیٹا باکس حاصل کرلیے گئے ہیں, 20 سے 25 افراد کے ابھی بھی بوگیوں کے نیچے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے.ریلولے اور مقامی حکام کی رپورٹ

سکھر(روزنامہ پنجاب تازہ ترین۔07 جون ۔2021ء) صوبہ سندھ میں ڈہرکی کے قریب ملت ایکسپریس اور سرسید ایکسپریس کے تصادم سے ہلاک ہونے والے مسافروں کی تعداد42سے تجاوزکرگئی ہے ایس ایس پی گھوٹکی عمرطفیل نے بتایا کہ 20 سے 25 افراد کے ابھی بھی بوگیوں کے نیچے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے. اسسٹنٹ کمشنر گھوٹکی نے ٹرین حادثے میں جاں بحق افراد کی تعداد 42 ہوجانے کی تصدیق کی ہے ڈی ایس ریلوے طارق لطیف نے حادثے سے متعلق بتایا کہ ملت ایکسپریس کی بوگیاں پٹری سے اترنے کے 2منٹ بعد ہی سرسید ایکسپریس متاثرہ بوگیوں سے ٹکراگئی.

(جاری ہے)



طارق لطیف نے کہا کہ حادثے میں اپ ٹریک کا1100فٹ کا حصہ متاثر ہوا ہے جبکہ ڈاﺅن ٹریک کا300 فٹ حصہ متاثر ہوا ذرائع کے مطابق ٹرین حادثے کے بعد امدادی کارروائیاں سست روی کا شکار ہیں، بھاری مشینری تاحال جائے حادثہ پر نہیں پہنچ سکی ہے. تحصیل دار ڈہرکی کا کہنا ہے کہ دشوار گزار راستوں کی وجہ سے ہیوی مشینری پہنچنے میں تاخیر ہو رہی ہے، سندھ رینجرز کے جوان بھی امدادی کاموں میں مصروف ہیں ڈی ایس ریلوے سکھر طارق لطیف کے مطابق ٹرین حادثہ 3 بجکر 45 منٹ پر ہوا، حادثے کے بعد اپ اینڈ ڈاﺅن ریلوے ٹریفک معطل ہے، دونوں اطراف کی تمام مسافر ٹرینیں بڑے بڑے اسٹیشنوں پر روک لی گئی ہیں.طارق لطیف کا کہنا ہے کہ دو ماہ قبل حکومت کو خط لکھ کر کہہ دیا تھا کہ سکھر ڈویژن کا ٹریک درست نہیں ہنگامی بنیادوں پر مرمت ضروری ہے مگر کسی نے میری بات پر کارروائی نہ کی اور نتیجے کی صورت میں یہ حادثہ ہو گیا. ڈی ایس سکھر کے مطابق حادثہ ریتی اور ڈہرکی اسٹیشن کے درمیان پیش آیا دونوں ٹرینوں کے ڈرائیور اور عملہ محفوظ ہیں، ریلیف ٹرینیں روہڑی اور خانیوال سے روانہ کردی گئی ہیں‘انہوں نے انکشاف کیا کہ ملت ایکسپریس کی 8 بوگیاں پٹری سے اتر گئی تھیں اور ٹریک سے اترنے والی انہی بوگیوں سے سر سید ایکسپریس ٹکرا گئی.ترجمان ریلوے کا کہنا ہے کہ ریلوے پولیس ، مقامی پولیس اور مقامی انتظامیہ ریلیف کے لیے موقع پر موجود ہے،مسافروں کی سہولت کیلئے کراچی، سکھر، فیصل آباد اور راولپنڈی میں ہیلپ سینٹر قائم کر دیئے گئے ہیں. ریلوے ترجمان کے مطابق ٹرین حادثے کے زخمیوں کو تعلقہ ہسپتال روہڑی، پنو عاقل اور سول ہسپتال سکھر منتقل کیا گیا ہے،زیادہ تر زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کردیا گیا ہے انہوں نے بتایا کہ ٹریک بحال ہوتے ہی روکی گئی ٹرینوں کو منزل مقصود کی طرف روانہ کر دیا جائے گا.ادھرریلوے ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈہرکی کے قریب حادثے کا شکار ہونے والی ملت ایکسپریس اور سرسید ایکسپریس میں موجود ڈیٹا باکس حاصل کرلیے گئے ہیں ریلولے ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں مسافر ٹرینوں کے ڈیٹا باکس کے ذریعے ٹرین حادثے کی وجوہات معلوم کی جاسکتی ہیں. ذرائع نے بتایا کہ بلیک باکس میں موجود ڈیٹا سے چیک کیا جائے گا کہ حادثے کے وقت ٹرینوں کی اسپیڈ کیا تھی واضح رہے کہ ڈہرکی کے قریب ملت ایکسپریس اور سرسید ایکسپریس کے تصادم سے کئی بوگیاں پٹری سے اتر کر الٹ گئیں جس کے نتیجے میں 42 مسافر جاں بحق ہوگئے.حادثے سے متعلق ڈی ایس ریلوے طارق لطیف نے بتایا کہ ملت ایکسپریس کی بوگیاں پٹری سے اترنے کے 2منٹ بعد ہی سرسید ایکسپریس متاثرہ بوگیوں سے ٹکراگئی ڈی ایس ریلوے سکھر طارق لطیف کے مطابق ٹرین حادثہ 3 بجکر 45 منٹ پر ہوا، حادثے کے بعد اپ اینڈ ڈاﺅن ریلوے ٹریفک معطل ہے، دونوں اطراف کی تمام مسافر ٹرینیں بڑے بڑے اسٹیشنوں پر روک لی گئی ہیں. دوسری جانب سرسید ایکسپریس کے زخمی ڈرائیور کا کہنا ہے کہ شہریوں کے اشارے پر ایمرجنسی بریک لگایا، کہیں اور سے اطلاع نہیں ملی تھی سرسید ایکسپریس کے زخمی ڈرائیور نے اپنے بیان میں کہا کہ ریتی اسٹیشن کے سگنل گرین ملے تھے،ریتی کے اسٹیشن ماسٹر سے بھی بات ہوئی اس نے بھی کلیئر کیا ڈرائیور نے بتایا کہ گاڑی مقررہ اسپیڈ سے جارہی تھی، شہریوں کو اشارہ کرتے دیکھا تو ایمرجنسی بریک لگایا.



Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button