پاکستان

سانحہ موٹروے پر پولیس اور حکومت نے مکمل خاموش اختیار کر لی

سانحہ موٹروے پر پولیس اور حکومت نے مکمل خاموش اختیار کر لی

خاتون سے زیادتی کے واقعے کو مہینہ پورا ہونے کے قریب،نہ ملزم پکڑا گیا نہ ریپ کیسز میں کمی ہوئی،عوام کو واقعہ بھلانے کے لیے حکومت نے ’چپ رہو‘ کی پالیسی اختیار کر لی

 

لاہور (روزنامہ پنجاب تازہ ترین اخبار۔06 اکتوبر 2020ء) سانحہ
 موٹروے کو قریباََ ایک ماہ ہونے کے قریب ہے،یہ واقعہ گذشتہ ماہ کے پہلے ہفتے میں پیش آیا تھا جس نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔۔اگرچہ بچیوں سمیت خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات آئے روز رپورٹ ہوتے رہتے ہیں تاہم موٹروے پر کسی خاتون کے ساتھ زیادتی کا یہ واقعہ اپنی نوعیت کا منفرد اور پہلا واقعہ تھا۔ 
خاتون کو لاہور کے علاقے گجرپورہ کے قریب اُس وقت زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جب سفر کے دوران اُن کی گاڑی سے پٹرول ختم ہو گیا اور وہ کسی عزیز کا انتظار کرنے لگیں،اتنے میں دردندہ سفت ملزمان اچانک نمودار ہوئے اور سڑک پر کھڑی گاڑی کا شیشہ توڑ ڈالا۔ گاڑی میں خاتون اور اس کے بچے موجود تھے۔ ملزمان نے خاتون اور بچوں کو گاڑی سے نکالا اور موٹروے کی حفاظتی تار کاٹ کر انہیں قریبی جھاڑیوں میں لے گئے۔
(جاری ہے)
پھر اس کے بعد سفاک درندوں نے خاتون کو بچوں کے سامنے اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔شرمناک فعل کے بعد گاڑی میں موجود ایک لاکھ روپے کی رقم بھی لے کر فرار ہو گئے۔ واقعے کے بعد پورے ملک میں شدید غم و غصہ پایا گیا جب کہ اس واقعے کو عالمی میڈیا نے بھی رپورٹ کیا۔
یہ واقعہ کئی روز تک سوشل میڈیا پر ہیڈ لائنز کی زینت بنا رہا۔
وزیراعظم عمران خان سمیت اپوزیشن قیادت نے بھی واقعے کی مذمت کی اور ملزمان کو جلد گرفتار کرنے کی بھی ہدایت کی۔شاہد اس کیس کے ملزمان تک پہنچنا بہت زیادہ مشکل ہوتا تاہم واقعے میں ملوث ملزم کا ڈی این اے پہلے ہی موجود تھا کیونکہ ملزم عابد علی پہلے بھی واردات میں ملوث رہ چکا تھا،ملزم کے ڈی این اے سے اس کی شناخت ہو گئی، جس کے بعد پولیس کا کام محض اس کو گرفتار کرنے تک محدود ہو گیا۔
پولیس نے اس کیس میں کئی گرفتاریاں کیں،ملزم کے قریبی رشتہ داروں اور دوست کو بھی گرفتار کیا،واقعے کے دوسرے ملزم شفقت کوعابد علی کے دوست وقار الحسن کی نشاندہی پر دیپالور سے گرفتار کیا گیا تھا جس نے تفتیش کے دوران جرم کا اعتراف کیا۔
 تاہم پولیس واقعے کے مرکزی ملزم عابد علی کو گرفتار کرنے میں تاحال ناکام ہے۔
ملزم کے 7 خاکے بھی بنائے گئے جو کسی کام نہ آئے۔
 
پولیس اطلاع ملنے کے باوجود عابد علی کو گرفتار نہ کر سکی۔ موٹروے زیادتی کیس کا اہم ملزم عابد علی گذشتہ ہفتے بھی ایک بار پھر پولیس کو چکمہ دے گیا۔ مرکزی ملزم عابد علی اپنی سالی کو ملنے ننکانہ صاحب آیا تھا۔پولیس اطلاع ملنے کے باوجود عابد علی کو گرفتار نہ کر سکی۔
پولیس کا ملزم سے پانچ بار آمنا سامنا ہو چکا ہے لیکن اب تک چالاک ملزم پولیس کی گرفت میں نہ آ سکا۔۔اس سے قبل 19 ستمبر کو بھی پنجاب پولیس موٹروے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد علی کو 10 فٹ کے فاصلے سے پکڑنے میں ناکام رہی ۔ پولیس کو ملزم عابد علی کی سالی کے گھر موجودگی کی اطلاع ملی، اس کے باوجود پولیس 30 منٹ تاخیر سے وہاں پہنچی۔
اس سے قبل پنجاب پولیس کی بدترین نااہلی کی وجہ سے سانحہ گجر پورہ کا مرکزی ملزم قصور میں بھی گرفتار ہونے سے بچ گیا تھا۔
یہ تیسرا موقع تھا جب ملزم پولیس کے سامنے سے فرار ہوا۔ ملزم کے فرار ہونے پر پولیس نے ہوائی فائرنگ کی اور کھیتوں میں کئی گھنٹے تک سرچ آپریشن کیا گیا،تاہم تب تک ملزم فرار ہو چکا تھا۔ ملزم عابد کو گرفتار کرنا پولیس کے لیے چیلنج بن گیا ۔ پولیس اور حکومت پنجاب کی جانب سے بار بار دعوے کیے جا رہے ہیں کہ ملزم کو چند گھنٹوں میں گرفتار کر لیا جائے گا، ملزم کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
تاہم ملزم 5 مرتبہ پولیس کے سامنے سے فرار ہونے میں کامیاب رہا۔ ملزم عابد پہلی مرتبہ قلعہ ستار شاہ، پھر ساہیوال، قصور اور دو بار ننکانہ صاحب میں پولیس کے سامنے فرار ہوگیا۔چند دنوں سے حکومت اور پولیس کی جانب سے اس کیس پر نئی پالیسی اپنائی جا رہی ہے،کوئی بھی حکومتی ترجمان یا پولیس ذرائع اس حوالے سے بیان دینے سے گریز کر رہے تھے۔
 
تاہم میڈیا اس پر مسسلسل آواز اٹھا رہا تھا،یہ کہا جائے تو بھی غلط نہ ہو گا کہ میڈیا کی بدولت ہی اس کیس پر آواز اٹھائی جا رہی تھی تاہم یہ آواز بھی اس وقت بند ہو گئی جب پیمرا نے موٹروے زیادتی کیس سے متعلق خبریں نشر کرنے پر پابندی عائد کر دی،حکومتی شخصیات اور پولیس کے بعد میڈیا بھی مجبورا خاموش ہو گیا۔
تاہم عوام ابھی اس واقعے کو نہیں بھولے اور پولیس کی کارگردگی پر مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے شدید رِد عمل دیکھنے میں آیا ہے اور اس نئی پالیسی کو سخت ناپسند کیا جا رہا ہے۔لوگوں کا کہناہے کہ حکومت اور پولیس اس واقعے پر خاموشی اختیار کر کے یہ کوشش کر رہی ہے کہ شاید عوام بھی اسے بھول جائے۔تاہم عوام اس واقعے کو اس وقت تک نہیں بھولے گی جب تک ملزم کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button